اے عشق جنوں پیشہ
Published 13 October 2026
عمروں کی مسافت سے
تھک ہار گئے آخر
سب عہد اذیت کے
بے کار گئے آخر
اغیار کی بانہوں میں
دل دار گئے آخر
رو کر تری قسمت کو
غم خوار گئے آخر
یوں زندگی گزرے گی
تا چند وفا کیشا
وہ وادئ الفت تھی
یا کوہ الم جو تھا
سب مد مقابل تھے
خسرو تھا کہ جم جو تھا
ہر راہ میں ٹپکا ہے
خوں نابہ بہم جو تھا
رستوں میں لٹایا ہے
وہ بیش کہ کم جو تھا
نے رنج شکست دل
نے جان کا اندیشہ
۔
کچھ اہل ریا بھی تو
ہم راہ ہمارے تھے
رہرو تھے کہ رہزن تھے
جو روپ بھی دھارے تھے کچھ سہل طلب بھی تھے
وہ بھی ہمیں پیارے تھے
اپنے تھے کہ بیگانے
ہم خوش تھے کہ سارے تھے
سو زخم تھے نس نس میں
گھائل تھے رگ و ریشہ
جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کے پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ محبت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا
یوں ہے کہ سفر اپنا
تھا خواب نہ افسانہ
آنکھوں میں ابھی تک ہے
فردا کا پری خانہ
صد شکر سلامت ہے
پندار فقیرانہ
اس شہر خموشی میں
پھر نعرۂ مستانہ
اے ہمت مردانہ
صد خارہ و یک تیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)