Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے خدا جو بھی مجھے پند شکیبائی دے

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

اے خدا جو بھی مجھے پند شکیبائی دے

اس کی آنکھوں کو مرے زخم کی گہرائی دے

تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو

ان کو آنکھیں نہیں دیتا ہے تو بینائی دے

جس کے ایما پہ کیا ترک تعلق سب سے

اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے

یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر

یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے

اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا

چشم گریاں نہ سہی چشم تماشائی دے

جن کو پیراہن توقیر و شرف بخشا ہے

وہ برہنہ ہیں انہیں خلعت رسوائی دے

کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فرازؔ

وہ تو قاتل کو بھی الزام مسیحائی دے

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz