اے مرے بے درد شہر
Published 13 October 2026
دل سلگ اٹھتا ہے اپنے بام و در کو دیکھ کر
پھیلنے لگتی ہیں جب بھی شام کی پرچھائیاں
اس قدر ویران لمحے اس قدر سنسان رات
سوچ میں گم ہیں افق سے تا افق پہنائیاں
کس لیے روشن کروں دیوار و در کوئی تو ہو
گنگ دیواروں میں کیا ہوں انجمن آرائیاں
دور ہر شب جاگ اٹھتے ہیں کئی ماہ و نجوم
آگ بھڑکاتی ہیں سنگ و خشت کی رعنائیاں
راستوں سے خواب گاہوں تک مسلسل موج رنگ
جس طرح قوس قزح کی ٹوٹتی انگڑائیاں
زخم نظارہ لیے آنکھوں میں چپ تکتا رہا
گو مری نیندیں بھی مجھ سے لے اڑیں شہنائیاں
کل ذرا سی دیر چمکے تھے مرے دیوار و در
جھلملا اٹھی تھیں میری روح کی گہرائیاں
چند لمحوں کے لیے لو دے اٹھا تھا اک چراغ
اور دمک اٹھی تھیں کچھ لمحے مری تنہائیاں
آج اتنا شور کیوں ہے اے مرے بے درد شہر
ہر نظر میری طرف ہے اس قدر رسوائیاں
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)