اے نگار گل
Published 13 October 2026
نگار گل تجھے وہ دن بھی یاد ہوں شاید
کہ جن کے ذکر سے اب دل پہ تازیانہ لگے
تری طلب میں وہ دار و رسن کے ہنگامے
کہ جن کی بات کریں بھی تو اب فسانہ لگے
بقدر ذوق جلاتے رہے لہو کے چراغ
کہ تو جب آئے تو یہ گھر نگار خانہ لگے
اسی خیال سے ہر زخم اپنے دل پہ سہا
کہ تجھ کو گردش ایام کی ہوا نہ لگے
مگر جو گزری ہے ہم پر ترے حصول کے بعد
وہ حال غم بھی کہیں گر تجھے برا نہ لگے
نگار گل وہ ہمیں تھے ترے تمنائی
کہ جن کے خوں سے ترے رنگ تابناک ہوئے
ہمیں ہیں جن سے قبا تیری لالہ رنگ ہوئی
ہمیں ہیں وہ جو تری رہگزر میں خاک ہوئے
خزاں تو خیر ستم کیشیوں کی رت تھی مگر
بہار میں بھی ہمارے جگر ہی چاک ہوئے
ہمیں منارۂ کسریٰ کو توڑنے والے
ترے حریم میں آ کر ہمیں ہلاک ہوئے
نگار گل یہ تقاضا مگر وفا کا ہے
کہ اب بھی ہم ترے وعدوں کا اعتبار کریں
گزر گئی جو گزرنی تھی سخت جانوں پر
پھر آج تیری جفاؤں کا کیا شمار کریں
الم گزیدہ سہی پیرہن دریدہ سہی
مگر لبوں پہ غم دل نہ آشکار کریں
یہی اصول رہا ہے وفا پرستوں کا
ہر ایک حال میں توصیف حسن یار کریں
جبیں سے دھو کے ہر اک نقش نامرادی کا
نگار گل ترے جلووں کا انتظار کریں
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)