Prof. Syed Mujahid Sajjad

بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئے

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئے

اک ہم تھے تیری بزم میں آنسو پیے ہوئے

دیکھا جسے بھی اس کی محبت میں مست تھا

جیسے تمام شہر ہو دارو پیے ہوئے

تکرار بے سبب تو نہ تھی رند و شیخ میں

کرتے بھی کیا شراب تھے ہر دو پیے ہوئے

پھر کیا عجب کہ لوگ بنا لیں کہانیاں

کچھ میں نشے میں چور تھا کچھ تو پیے ہوئے

یوں ان لبوں کے مس سے معطر ہوں جس طرح

وہ نو بہار ناز تھا خوشبو پیے ہوئے

یوں ہو اگر فرازؔ تو تصویر کیا بنے

اک شام اس کے ساتھ لب جو پیے ہوئے

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz