گل شدہ شمعوں کا ماتم نہ کرو
Published 13 October 2026
عمر گزری ہے سجاتے ہوئے بام و در کو
اس تمنا پہ کہ وہ جان بہار آئے گی
فرش رہ دیدہ و دل تھے کہ وہ آسودہ خرام
درد کی آگ کو گلزار بنا جائے گی
اس توقع پہ خرابے رہے آغوش کشا
کھل کے برسے گی اگر اب کے گھٹا چھائے گی
ایک اک لمحہ قیامت کی طرح گزرا ہے
آخر کار وہ محبوب نظر بھی آئی
منتظر آنکھیں تو پتھرا ہی چکی تھیں لیکن
کشتگان شب فرقت کی سحر بھی آئی
جسم کیوں شل ہیں دھڑکتے ہوئے دل کیوں چپ ہیں
جرس گل کی تو آواز ادھر بھی آئی
آج پھر کرتے ہو کس زعم پہ زخموں کا شمار
سر پھرو وادیٔ پر خار میں یہ تو ہوگا
کیوں نگاہوں میں ہے افسردہ چراغوں کا دھواں
آرزوئے لب و رخسار میں یہ تو ہوگا
ایک سے ایک کڑی منزل جاں آئے گی
رہ گزار طلب یار میں یہ تو ہوگا
ہونٹ سل جائیں مگر جرأت اظہار رہے
دل کی آواز کو مدھم نہ کرو دیوانو
ڈھل چکی رات تو اب کہر بھی چھٹ جائے گی
اب بھی امید کی لو کم نہ کرو دیوانو
آندھیاں آیا ہی کرتی ہیں ہر اک حبس کے بعد
گل شدہ شمعوں کا ماتم نہ کرو دیوانو
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)