ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیں
کلیاتِ احمد فراز
Published 13 October 2026
ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیں
تجھ کو بھولے ہیں تو دل داریٔ فن یاد نہیں
دل سے کل محو تکلم تھے تو معلوم ہوا
کوئی کاکل کوئی لب کوئی دہن یاد نہیں
عقل کے شہر میں آیا ہے تو یوں گم ہے جنوں
لب گویا کو بھی بے ساختہ پن یاد نہیں
اول اول تو نہ تھے واقف آداب قفس
اور اب رسم و رہ اہل چمن یاد نہیں
ہر کوئی ناوک و ترکش کی دکاں پوچھتا ہے
کسی گاہک کو مگر اپنا بدن یاد نہیں
وقت کس دشت فراموشی میں لے آیا ہے
اب ترا نام بھی خاکم بدہن یاد نہیں
یہ بھی کیا کم ہے غریب الوطنی میں کہ فرازؔ
ہم کو بے مہرئ ارباب وطن یاد نہیں
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)