ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا
Published 13 October 2026
ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا
کون دریا کو الٹتا کون گوہر دیکھتا
وہ تو دنیا کو مری دیوانگی خوش آ گئی
تیرے ہاتھوں میں وگرنہ پہلا پتھر دیکھتا
آنکھ میں آنسو جڑے تھے پر صدا تجھ کو نہ دی
اس توقع پر کہ شاید تو پلٹ کر دیکھتا
میری قسمت کی لکیریں میرے ہاتھوں میں نہ تھیں
تیرے ماتھے پر کوئی میرا مقدر دیکھتا
زندگی پھیلی ہوئی تھی شام ہجراں کی طرح
کس کو اتنا حوصلہ تھا کون جی کر دیکھتا
ڈوبنے والا تھا اور ساحل پہ چہروں کا ہجوم
پل کی مہلت تھی میں کس کو آنکھ بھر کر دیکھتا
تو بھی دل کو ایک خوں کی بوند سمجھا ہے فرازؔ
آنکھ اگر ہوتی تو قطرے میں سمندر دیکھتا
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)