Prof. Syed Mujahid Sajjad

انتساب

Ahmed Faraz

کلیاتِ احمد فراز

Published 13 October 2026

ہماری چاہتوں کی بزدلی تھی

ورنہ کیا ہوتا

اگر یہ شوق کے مضموں

وفا کے عہد نامے

اور دلوں کے مرثیے

اک دوسرے کے نام کر دیتے

زیادہ سے زیادہ

چاہتیں بد نام ہو جاتیں

ہماری دوستی کی داستانیں عام ہو جاتیں

تو کیا ہوتا

یہ ہم جو زیست کے ہر عشق میں سچائیاں سوچیں

یہ ہم جن کا اثاثہ تشنگی، تنہائیاں سوچیں

یہ تحریریں

ہماری آرزو مندی کی تحریریں

بہم پیوستگی اور خواب پیوندی کی تحریریں

فراق و وصل و محرومی و خورسندی کی تحریریں

ہم ان پر منفعل کیوں ہوں

یہ تحریریں

اگر اک دوسرے کے نام ہو جائیں

تو کیا اس سے ہمارے فن کے رسیا

شعر کے مداح

ہم پر تہمتیں دھرتے

ہماری ہمدمی پر طنز کرتے

اور یہ باتیں

اور یہ افواہیں

کسی پیلی نگارش میں

ہمیشہ کے لئے مرقوم ہو جاتیں

ہماری ہستیاں مذموم ہو جاتیں

نہیں ایسا نہ ہوتا

اور اگر بالفرض ہوتا بھی

تو پھر ہم کیا

سبک ساران شہر حرف کی چالوں سے ڈرتے ہیں

سگان کوچۂ شہرت کے غوغا

کالے بازاروں کے دلالوں سے ڈرتے ہیں

ہمارے حرف جذبوں کی طرح

سچے ہیں، پاکیزہ ہیں، زندہ ہیں

بلا سے ہم اگر مصلوب ہو جاتے

یہ سودا کیا برا تھا

گر ہماری قبر کے کتبے

تمہارے اور ہمارے نام سے منسوب ہو جاتے!

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz