جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا یارا اس دن تھا
Published 13 October 2026
جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا یارا اس دن تھا
ہر درد نے دل کو سہلایا کیا حال ہمارا اس دن تھا
جب خواب ہوئیں اس کی آنکھیں جب دھند ہوا اس کا چہرہ
ہر اشک ستارہ اس شب تھا ہر زخم انگارہ اس دن تھا
سب یاروں کے ہوتے سوتے ہم کس سے گلے مل کر روتے
کب گلیاں اپنی گلیاں تھیں کب شہر ہمارا اس دن تھا
جب تجھ سے ذرا غافل ٹھہرے ہر یاد نے دل پر دستک دی
جب لب پہ تمہارا نام نہ تھا ہر دکھ نے پکارا اس دن تھا
اک تم ہی فرازؔ نہ تھے تنہا اب کے تو بلا واجب آئی
اک بھیڑ لگی تھی مقتل میں ہر درد کا مارا اس دن تھا
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)