Prof. Syed Mujahid Sajjad

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے

تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار

برگ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے

شمع کی لو تھی کہ وہ تو تھا مگر ہجر کی رات

دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے

خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائی

لوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسانے میرے

لٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں سے بھرا ہے دامن

دیکھ غارت گر دل یہ بھی خزانے میرے

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر

جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

کاش تو بھی میری آواز کہیں سنتا ہو

پھر پکارا ہے تجھے دل کی صدا نے میرے

کاش تو بھی کبھی آ جائے مسیحائی کو

لوگ آتے ہیں بہت دل کو دکھانے میرے

کاش اوروں کی طرح میں بھی کبھی کہہ سکتا

بات سن لی ہے مری آج خدا نے میرے

تو ہے کس حال میں اے زود فراموش مرے

مجھ کو تو چھین لیا عہد وفا نے میرے

چارہ گر یوں تو بہت ہیں مگر اے جان فرازؔ

جز ترے اور کوئی زخم نہ جانے میرے

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz