Prof. Syed Mujahid Sajjad

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا

بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی

خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے

مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا

جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے

میں نے یہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا

جانے کس عالم میں تو بچھڑا کہ ہے تیرے بغیر

آج تک ہر نقش فریادی مری تحریر کا

عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ

جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا

جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فرازؔ

سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz