نوحہ گروں میں دیدۂ تر بھی اسی کا تھا
Published 13 October 2026
نوحہ گروں میں دیدۂ تر بھی اسی کا تھا
مجھ پر یہ ظلم بار دگر بھی اسی کا تھا
دیکھا مجھے تو ترک تعلق کے باوجود
وہ مسکرا دیا یہ ہنر بھی اسی کا تھا
آنکھیں کشاد و بست سے بدنام ہو گئیں
سورج اسی کا خواب سحر بھی اسی کا تھا
خنجر در آستیں ہی ملا جب کبھی ملا
وہ تیغ کھینچتا تو یہ سر بھی اسی کا تھا
نشتر چبھے ہوئے تھے رگ جاں کے آس پاس
وہ چارہ گر تھا اور مجھے ڈر بھی اسی کا تھا
محفل میں کل فرازؔ ہی شاید تھا لب کشا
مقتل میں آج کاسۂ سر بھی اسی کا تھا
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)