Prof. Syed Mujahid Sajjad

سرحدیں

Ahmed Faraz

کلیاتِ احمد فراز

Published 13 October 2026

کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرح

ایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دل

کس پہ شک کرتے ہو جتنے بھی مسافر ہیں یہاں

ایک ہی سب کا قبیلہ وہی پیکر وہی گل

ہم تو وہ تھے کہ محبت تھا وطیرہ جن کا

پیار سے ملتا تو دشمن کے بھی ہو جاتے تھے

اس توقع پہ کہ شاید کوئی مہماں آ جائے

گھر کے دروازے کھلے چھوڑ کے سو جاتے تھے

ہم تو آئے تھے کہ دیکھیں گے تمہارے قریے

وہ در و بام کہ تاریخ کے صورت گر ہیں

وہ ارینے وہ مساجد وہ کلیسا وہ محل

اور وہ لوگ جو ہر نقش سے افضل تر ہیں

روم کے بت ہوں کہ پیرس کی ہو مونالیزا

کیٹس کی قبر ہو یا تربت فردوسی ہو

قرطبہ ہو کہ اجنتا کہ موہنجوداڑو

دیدۂ شوق نہ محروم نظر بوسی ہو

کس نے دنیا کو بھی دولت کی طرح بانٹا ہے

کس نے تقسیم کئے ہیں یہ اثاثے سارے

کس نے دیوار تفاوت کی اٹھائی لوگو

کیوں سمندر کے کنارے پہ ہیں پیاسے سارے

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz