شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ
کلیاتِ احمد فراز
Published 13 October 2026
شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ
کوئی بھی رت ہو بہار کے پیرہن میں آؤ
کوئی سفر ہو تمہیں کو منزل سمجھ کے جاؤں
کوئی مسافت ہو تم مری ہی لگن میں آؤ
کبھی تو ایسا بھی ہو کہ لوگوں کی بات سن کر
مری طرف تم رقابتوں کی جلن میں آؤ
وہ جس غرور اور ناز سے تم چلے گئے تھے
کبھی اسی تمکنت اسی بانکپن میں آؤ
یہ کیوں ہمیشہ مری طلب ہی تمہیں صدا دے
کبھی تو خود بھی سپردگی کی تھکن میں آؤ
ہزار مفلس سہی مگر ہم سخی بلا کے
کبھی تو تم اہل درد کی انجمن میں آؤ
ہم اہل دل ہیں ہماری اقلیم حرف کی ہے
کبھی تو جان سخن دیار سخن میں آؤ
کبھی کبھی دوریوں سے کوئی پکارتا ہے
فرازؔ جانی فرازؔ پیارے وطن میں آؤ
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)