Prof. Syed Mujahid Sajjad

شہر نامہ

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

وہ عجیب صبح بہار تھی

کہ سحر سے نوحہ گری رہی

مری بستیاں تھیں دھواں دھواں

مرے گھر میں آگ بھری رہی

مرے راستے تھے لہو لہو

مرا قریہ قریہ فگار تھا

یہ کف ہوا پہ زمین تھی

وہ فلک کہ مشت غبار تھا

کئی آبشار سے جسم تھے

کہ جو قطرہ قطرہ پگھل گئے

کئی خوش جمال طلسم تھے

جنہیں گرد باد نگل گئے

کوئی خواب نوک سناں پہ تھا

کوئی آرزو تہ سنگ تھی

کوئی پھول آبلہ آبلہ

کوئی شاخ مرقد رنگ تھی

کئی لاپتہ میری لعبتیں

جو کسی طرف کی نہ ہو سکیں

جو نہ آنے والوں کے ساتھ تھیں

جو نہ جانے والوں کو رو سکیں

کئی تار ساز سے کٹ گئے

کسی مطربہ کی رگ گلو

مئے آتشیں میں وہ زہر تھا

کہ تڑخ گئے قدح و سبو

کوئی نے نواز تھا دم بخود

کہ نفس سے حدت جاں گئی

کوئی سر بہ زانو تھا باربدؔ

کہ صدائے دوست کہاں گئی

کہیں نغمگی میں وہ بین تھے

کہ سماعتوں نے سنے نہیں

کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے

کہ انیسؔ نے بھی کہے نہیں

یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں

یہاں موتیوں کی دکان تھی

یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں

یہاں بادلوں کی اڑان تھی

جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر

یہاں قمقموں سے جوان تھے

جہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن

یہاں جگنوؤں کے مکان تھے

کہیں آبگینہ خیال کا

کہ جو کرب ضبط سے چور تھا

کہیں آئینہ کسی یاد کا

کہ جو عکس یار سے دور تھا

مرے بسملوں کی قناعتیں

جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے

مرے آہوؤں کا چکیدہ خوں

جو شکاریوں کو سراغ دے

مری عدل گاہوں کی مصلحت

مرے قاتلوں کی وکیل ہے

مرے خانقاہوں کی منزلت

مری بزدلی کی دلیل ہے

مرے اہل حرف و سخن سرا

جو گداگروں میں بدل گئے

مرے ہم سفیر تھے حیلہ جو

کسی اور سمت نکل گئے

کئی فاختاؤں کی چال میں

مجھے کرگسوں کا چلن لگا

کئی چاند بھی تھے سیاہ رو

کئی سورجوں کو گہن لگا

کوئی تاجر حسب و نسب

کوئی دیں فروش قدیم ہے

یہاں کفش بر بھی امام ہیں

یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے

کوئی فکر مند کلاہ کا

کوئی دعوے دار قبا کا ہے

وہی اہل دل بھی ہیں زیب تن

جو لباس اہل ریا کا ہے

مرے پاسباں مرے نقب زن

مرا ملک ملک یتیم ہے

مرا دیس میر سپاہ کا

مرا شہر مال غنیم ہے

جو روش ہے صاحب تخت کی

سو مصاحبوں کا طریق ہے

یہاں کوتوال بھی دزد شب

یہاں شیخ دیں بھی فریق ہے

یہاں سب کے نرخ جدا جدا

اسے مول لو اسے تول دو

جو طلب کرے کوئی خوں بہا

تو دہن خزانے کا کھول دو

وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب

اسے قمچیوں سے زبوں کرو

جہاں خلق شہر ہو مشتعل

اسے گولیوں سے نگوں کرو

مگر ایسے ایسے غنی بھی تھے

اسی قحط زار دمشق میں

جنہیں کوئے یار عزیز تھا

جو کھڑے تھے مقتل عشق میں

کوئی بانکپن میں تھا کوہ کن

تو جنوں میں قیس سا تھا کوئی

جو صراحیاں لیے جسم کی

مئے ناب خوں سے بھری ہوئی

تھے صدا بہ لب کہ پیو پیو

یہ سبیل اہل صفا کی ہے

یہ نشید نوش بدن کرو

یہ کشید تاک وفا کی ہے

کوئی تشنہ لب ہی نہ تھا یہاں

جو پکارتا کہ ادھر ادھر

سبھی مفت بر تھے تماش بیں

کوئی بزم میں کوئی بام پر

سبھی بے حسی کے خمار میں

سبھی اپنے حال میں مست تھے

سبھی رہروان رہ عدم

مگر اپنے زعم میں ہست تھے

سو لہو کے جام انڈیل کر

مرے جاں فروش چلے گئے

وہ سکوت تھا سر میکدہ

کہ وہ نم بدوش چلے گئے

کوئی محبسوں میں رسن بہ پا

کوئی مقتلوں میں دریدہ تن

نہ کسی کے ہاتھ میں شاخ نے

نہ کسی کے لب پہ گل سخن

اسی عرصۂ شب تار میں

یوں ہی ایک عمر گزر گئی

کبھی روز وصل بھی دیکھتے

یہ جو آرزو تھی وہ مر گئی

یہاں روز حشر بپا ہوئے

پہ کوئی بھی روز جزا نہیں

یہاں زندگی بھی عذاب ہے

یہاں موت میں بھی شفا نہیں

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz