Prof. Syed Mujahid Sajjad

تپتے صحراؤں پہ گرجا سر دریا برسا

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

تپتے صحراؤں پہ گرجا سر دریا برسا

تھی طلب کس کو مگر ابر کہاں جا برسا

کتنے طوفانوں کی حامل تھی لہو کی اک بوند

دل میں اک لہر اٹھی آنکھ سے دریا برسا

کوئی غرقاب کوئی ماہیٔ بے آب ہوا

ابر بے فیض جو برسا بھی تو کیسا برسا

چڑھتے دریاؤں میں طوفان اٹھانے والے

چند بوندیں ہی سر دامن صحرا برسا

طنز ہیں سوختہ جانوں پہ گرجتے بادل

یا تو گھنگھور گھٹائیں نہ اٹھا یا برسا

ابر و باراں کے خدا جھومتا بادل نہ سہی

آگ ہی اب سر گلزار تمنا برسا

اپنی قسمت کہ گھٹاؤں میں بھی جلتے ہیں فرازؔ

اور جہاں وہ ہیں وہاں ابر کا سایہ برسا

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz