Prof. Syed Mujahid Sajjad

تسلسل

Ahmed Faraz

کلیاتِ احمد فراز

Published 13 October 2026

کب سے سنسان خرابوں میں پڑا تھا یہ جہاں

کب سے خوابیدہ تھے اس وادئ خارا کے صنم

کس کو معلوم یہ صدیوں کے پراسرار بھرم

کون جانے کہ یہ پتھر بھی کبھی تھے انساں

صرف لب دوختہ پربت ہیں جہاں نوحہ کناں

نہ در و بام نہ دیوار و دریچہ کوئی

کوئی دہلیز شکستہ نہ حریم ویراں

شہر کے شہر ہیں پاتال کے دامن میں نہاں

کون پہچانتا ظلمت ہیں سیاہی کے نشاں

جو نظر ڈھونڈنے اٹھی وہ نظر بھی کھوئی

چشم مہتاب بھی شبنم کی جگہ خوں روئی

علم نے آج کریدے ہیں وہ ظلمات کے ڈھیر

وقت نے جس پہ بٹھائے تھے فنا کے پہرے

جاگ اٹھے صور سرافیل سے گونگے بہرے

تا ابد جن کے مقدر میں تھی دنیا اندھیر

یہ مگر عظمت انساں ہے کہ تقدیر کے پھیر؟

یہ عمارات، یہ مینار، یہ گل زار، یہ کھیت

تودۂ خاک سے ہستی نے لیا تازہ جنم

جی اٹھے وادئ خاموش کے بے جان صنم

پھر کوئی چیرے گا ذرے کا جگر قطرۂ یم

دفن کر دے گا جو خالق کو بھی مخلوق سمیت

اور یہ آبادیاں بن جائیں گی پھر ریت ہی ریت

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz