Prof. Syed Mujahid Sajjad

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ

لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں

خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ

بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ

دم بہ دم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ

کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں

جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ

گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر

خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ

بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو

کرۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر

برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ

ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ

رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz