تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھا
پاکستانی ادب-1994
Published 13 October 2026
تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھا
دل کے اندر کہیں تھا جو کچھ تھا
تو بھی اپنے سے خوش گماں تھا بہت
میں بھی اپنے تئیں تھا جو کچھ تھا
شہر خوباں میں وہ وفا دشمن
خوب صورت تریں تھا جو کچھ تھا
درد مے تھی کہ تلخیٔ ہستی
جام میں تہہ نشیں تھا جو کچھ تھا
چھوڑ آئے عبث در جاناں
یار سب کچھ وہیں تھا جو کچھ تھا
عشق اکسیر تھا دلوں کے لئے
زہر تھا انگبیں تھا جو کچھ تھا
ہوش آیا تو اب کھلا ہے فرازؔ
میں تو کچھ بھی نہیں تھا جو کچھ تھا
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)