Prof. Syed Mujahid Sajjad

ترا قرب تھا کہ فراق تھا وہی تیری جلوہ گری رہی

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

ترا قرب تھا کہ فراق تھا وہی تیری جلوہ گری رہی

کہ جو روشنی ترے جسم کی تھی مرے بدن میں بھری رہی

ترے شہر میں میں چلا تھا جب تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا مرے

تو میں کس سے محو کلام تھا تو یہ کس کی ہم سفری رہی

مجھے اپنے آپ پہ مان تھا کہ نہ جب تلک ترا دھیان تھا

تو مثال تھی مری آگہی تو کمال بے خبری رہی

مرے آشنا بھی عجیب تھے نہ رفیق تھے نہ رقیب تھے

مجھے جاں سے درد عزیز تھا انہیں فکر چارہ گری رہی

میں یہ جانتا تھا مرا ہنر ہے شکست و ریخت سے معتبر

جہاں لوگ سنگ بدست تھے وہیں میری شیشہ گری رہی

جہاں ناصحوں کا ہجوم تھا وہیں عاشقوں کی بھی دھوم تھی

جہاں بخیہ گر تھے گلی گلی وہیں رسم جامہ دری رہی

ترے پاس آ کے بھی جانے کیوں مری تشنگی میں ہراس تھا

بہ مثال چشم غزال جو لب آب جو بھی ڈری رہی

جو ہوس فروش تھے شہر کے سبھی مال بیچ کے جا چکے

مگر ایک جنس وفا مری سر رہ دھری کی دھری رہی

مرے ناقدوں نے فراز جب مرا حرف حرف پرکھ لیا

تو کہا کہ عہد ریا میں بھی جو بات کھری تھی کھری رہی

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz