وہ تفاوتیں ہیں مرے خدا کہ یہ تو نہیں کوئی اور ہے
Published 13 October 2026
وہ تفاوتیں ہیں مرے خدا کہ یہ تو نہیں کوئی اور ہے
کہ تو آسمان پہ ہو تو ہو یہ سر زمیں کوئی اور ہے
وہ جو راستے تھے وفا کے تھے یہ جو منزلیں ہیں سزا کی ہیں
مرا ہم سفر کوئی اور تھا مرا ہم نشیں کوئی اور ہے
مرے جسم و جاں میں ترے سوا نہیں اور کوئی بھی دوسرا
مجھے پھر بھی لگتا ہے اس طرح کہ کہیں کہیں کوئی اور ہے
میں اسیر اپنے غزال کا میں فقیر دشت وصال کا
جو ہرن کو باندھ کے لے گیا وہ سبکتگیں کوئی اور ہے
میں عجب مسافر بے اماں کہ جہاں جہاں بھی گیا وہاں
مجھے یہ لگا مرا خاکداں یہ زمیں نہیں کوئی اور ہے
رہے بے خبر مرے یار تک کبھی اس پہ شک کبھی اس پہ شک
مرے جی کو جس کی رہی للک وہ قمر جبیں کوئی اور ہے
یہ جو چار دن کے ندیم ہیں انہیں کیا فرازؔ کوئی کہے
وہ محبتیں وہ شکایتیں ہمیں جس سے تھیں کوئی اور ہے
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)