دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے
کلیاتِ اکبر
Published 14 October 2026
دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے
اب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑے
عشق بتاں کا دین پہ جو کچھ اثر پڑے
اب تو نباہنا ہے جب اک کام کر پڑے
مذہب چھڑایا عشوۂ دنیا نے شیخ سے
دیکھی جو ریل اونٹ سے آخر اتر پڑے
بیتابیاں نصیب نہ تھیں ورنہ ہم نشیں
یہ کیا ضرور تھا کہ انہیں پر نظر پڑے
بہتر یہی ہے قصد ادھر کا کریں نہ وہ
ایسا نہ ہو کہ راہ میں دشمن کا گھر پڑے
ہم چاہتے ہیں میل وجود و عدم میں ہو
ممکن تو ہے جو بیچ میں ان کی کمر پڑے
دانا وہی ہے دل جو کرے آپ کا خیال
بینا وہی نظر ہے کہ جو آپ پر پڑے
ہونی نہ چاہئے تھی محبت مگر ہوئی
پڑنا نہ چاہئے تھا غضب میں مگر پڑے
شیطان کی نہ مان جو راحت نصیب ہو
اللہ کو پکار مصیبت اگر پڑے
اے شیخ ان بتوں کی یہ چالاکیاں تو دیکھ
نکلے اگر حرم سے تو اکبرؔ کے گھر پڑے
About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)
اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔