Prof. Syed Mujahid Sajjad

حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی

اکبر الہ آبادی

کلیاتِ اکبر

Published 14 October 2026

حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی

نظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کی

نہ دل آتا ہے قابو میں نہ نیند آتی ہے آنکھوں میں

شب فرقت میں کیوں کر بن پڑے تدبیر سونے کی

یہاں بیداریوں سے خون دل آنکھوں میں آتا ہے

گلابی کرتی ہے آنکھوں کو واں تاثیر سونے کی

بہت بے چین ہوں نیند آ رہی ہے رات جاتی ہے

خدا کے واسطے جلد اب کرو تدبیر سونے کی

یہ زردہ چیز ہے جو ہر جگہ ہے باعث شوکت

سنی ہے عالم بالا میں بھی تعمیر سونے کی

ضرورت کیا ہے رکنے کی مرے دل سے نکلتا رہ

ہوس مجھ کو نہیں اے نالۂ شب گیر سونے کی

چھپر کھٹ یاں جو سونے کی بنائی اس سے کیا حاصل

کرو اے غافلو کچھ قبر میں تدبیر سونے کی

About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)

اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔

Read all poetry by Akbar Allahabadi

More Urdu poetry by Akbar Allahabadi