نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
کلیاتِ اکبر
Published 14 October 2026
نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
صدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتے
مجھ ایسے رند سے رکھتے ضرور ہی الفت
جناب شیخ اگر عاشق خدا ہوتے
گناہ گاروں نے دیکھا جمال رحمت کو
کہاں نصیب یہ ہوتا جو بے خطا ہوتے
جناب حضرت ناصح کا واہ کیا کہنا
جو ایک بات نہ ہوتی تو اولیا ہوتے
مذاق عشق نہیں شیخ میں یہ ہے افسوس
یہ چاشنی بھی جو ہوتی تو کیا سے کیا ہوتے
محل شکر ہیں اکبرؔ یہ در فشاں نظمیں
ہر اک زباں کو یہ موتی نہیں عطا ہوتے
About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)
اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔