Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے آفتاب روح و روان جہاں ہے تو

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

اے آفتاب روح و روان جہاں ہے تو

شیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو

باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا

ہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کا

قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے

ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے

ہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے

تیرا یے سوز و ساز سراپا حیات ہے

وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے

دل ہے خرد ہے روح رواں ہے شعور ہے

اے آفتاب ہم کو ضيائے شعور دے

چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے

ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو

يزدان ساکنان نشيب و فراز تو

تیرا کمال ہستی ہر جان دار میں

تیری نمود سلسلہ کوہسار میں

ہر چیز کی حیات کا پروردگار تو

زائيدگان نور کا ہے تاجدار تو

نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری

آزاد قيد اول و آخر ضیا تری

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal