چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز ميں لايا
ہوئي اسي سے ترے غم کدے کي آبادي
تري غلامي کے صدقے ہزار آزادي
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ايک دم کے ليے
کسي کے شوق ميں تو نے مزے ستم کے ليے
جفا جو عشق ميں ہوتي ہے وہ جفا ہي نہيں
ستم نہ ہو تو محبت ميں کچھ مزا ہي نہيں
نظر تھي صورت سلماں ادا شناس تري
شراب ديد سے بڑھتي تھي اور پياس تري
تجھے نظارے کا مثل کليم سودا تھا
اويس طاقت ديدار کو ترستا تھا
مدينہ تيري نگاہوں کا نور تھا گويا
ترے ليے تو يہ صحرا ہي طور تھا گويا
تري نظر کو رہي ديد ميں بھي حسرت ديد
خنک دلے کہ تپيد و دمے نيا سائيد
گري وہ برق تري جان ناشکيبا پر
کہ خندہ زن تري ظلمت تھي دست موسي پر
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند
ادائے ديد سراپا نياز تھي تيري
کسي کو ديکھتے رہنا نماز تھي تيري
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بني
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بني
خوشا وہ وقت کہ يثرب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ ديدار عام تھا اس کا
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔