Prof. Syed Mujahid Sajjad

چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا

حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز ميں لايا

ہوئي اسي سے ترے غم کدے کي آبادي

تري غلامي کے صدقے ہزار آزادي

وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ايک دم کے ليے

کسي کے شوق ميں تو نے مزے ستم کے ليے

جفا جو عشق ميں ہوتي ہے وہ جفا ہي نہيں

ستم نہ ہو تو محبت ميں کچھ مزا ہي نہيں

نظر تھي صورت سلماں ادا شناس تري

شراب ديد سے بڑھتي تھي اور پياس تري

تجھے نظارے کا مثل کليم سودا تھا

اويس طاقت ديدار کو ترستا تھا

مدينہ تيري نگاہوں کا نور تھا گويا

ترے ليے تو يہ صحرا ہي طور تھا گويا

تري نظر کو رہي ديد ميں بھي حسرت ديد

خنک دلے کہ تپيد و دمے نيا سائيد

گري وہ برق تري جان ناشکيبا پر

کہ خندہ زن تري ظلمت تھي دست موسي پر

تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند

چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند

ادائے ديد سراپا نياز تھي تيري

کسي کو ديکھتے رہنا نماز تھي تيري

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بني

نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بني

خوشا وہ وقت کہ يثرب مقام تھا اس کا

خوشا وہ دور کہ ديدار عام تھا اس کا

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal