ڈرتے ڈرتے دم سحر سے
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
ڈرتے ڈرتے دم سحر سے
تارے کہنے لگے قمر سے
نظارے رہے وہي فلک پر
ہم تھک بھي گئے چمک چمک کر
کام اپنا ہے صبح و شام چلنا
چلنا چلنا ، مدام چلنا
بے تاب ہے اس جہاں کي ہر شے
کہتے ہيں جسے سکوں، نہيں ہے
رہتے ہيں ستم کش سفر سب
تارے، انساں، شجر، حجر سب
ہوگا کبھي ختم يہ سفر کيا
منزل کبھي آئے گي نظر کيا
کہنے لگا چاند ، ہم نشينو
اے مزرع شب کے خوشہ چينو!
جنبش سے ہے زندگي جہاں کي
يہ رسم قديم ہے يہاں کي
ہے دوڑتا اشہب زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازيانہ
اس رہ ميں مقام بے محل ہے
پوشيدہ قرار ميں اجل ہے
چلنے والے نکل گئے ہيں
جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہيں
انجام ہے اس خرام کا حسن
آغاز ہے عشق، انتہا حسن
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔