فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تيري مشت خاک کا معصوم ہے
يہ سعادت ، حور صحرائي! تري قسمت ميں تھي
غازيان ديں کي سقائي تري قسمت ميں تھي
يہ جہاد اللہ کے رستے ميں بے تيغ و سپر
ہے جسارت آفريں شوق شہادت کس قدر
يہ کلي بھي اس گلستان خزاں منظر ميں تھي
ايسي چنگاري بھي يارب، اپني خاکستر ميں تھي!
اپنے صحرا ميں بہت آہو ابھي پوشيدہ ہيں
بجلياں برسے ہوئے بادل ميں بھي خوابيدہ ہيں!
فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تيرے غم ميں ہے
نغمہ عشرت بھي اپنے نالہ ماتم ميں ہے
رقص تيري خاک کا کتنا نشاط انگيز ہے
ذرہ ذرہ زندگي کے سوز سے لبريز ہے
ہے کوئي ہنگامہ تيري تربت خاموش ميں
پل رہي ہے ايک قوم تازہ اس آغوش ميں
بے خبر ہوں گرچہ ان کي وسعت مقصد سے ميں
آفرينش ديکھتا ہوں ان کي اس مرقد سے ميں
تازہ انجم کا فضائے آسماں ميں ہے ظہور
ديدئہ انساں سے نامحرم ہے جن کي موج نور
جو ابھي ابھرے ہيں ظلمت خانہء ايام سے
جن کي ضو ناآشنا ہے قيد صبح و شام سے
جن کي تاباني ميں انداز کہن بھي، نو بھي ہے
اور تيرے کوکب تقدير کا پرتو بھي ہے
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔