Prof. Syed Mujahid Sajjad

عقل ہے بے زمام ابھي ، عشق ہے بے مقام ابھي

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

عقل ہے بے زمام ابھي ، عشق ہے بے مقام ابھي

نقش گر ، ازل! ترا نقش ہے نا تمام ابھي

خلق خدا کي گھات ميں رند و فقيہ و مير و پير

تيرے جہاں ميں ہے وہي گردش صبح و شام ابھي

تيرے امير مال مست ، تيرے فقير حال مست

بندہ ہے کوچہ گرد ابھي ، خواجہ بلند بام ابھي

دانش و دين و علم و فن بندگي ہوس تمام

عشق گرہ کشاے کا فيض نہيں ہے عام ابھي

جوہر زندگي ہے عشق ، جوہر عشق ہے خودي

آہ کہ ہے يہ تيغ تيز پردگي نيام ابھي!

فرمان خدا

(فرشتوں سے(

اٹھو ! مري دنيا کے غريبوں کو جگا دو

کاخ امرا کے در و ديوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوز يقيں سے

کنجشک فرومايہ کو شاہيں سے لڑا دو

سلطاني جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے ، مٹا دو

جس کھيت سے دہقاں کو ميسر نہيں روزي

اس کھيت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

کيوں خالق و مخلوق ميں حائل رہيں پردے

پيران کليسا کو کليسا سے اٹھا دو

حق را بسجودے ، صنماں را بطوافے

بہتر ہے چراغ حرم و دير بجھا دو

ميں ناخوش و بيزار ہوں مرمر کي سلوں سے

ميرے ليے مٹي کا حرم اور بنا دو

تہذيب نوي کارگہ شيشہ گراں ہے

آداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا دو!

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal