Prof. Syed Mujahid Sajjad

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی

اڑنے چگنے میں دن گزارا

پہنچوں کس طرح آشیاں تک

ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

سن کر بلبل کی آہ و زاری

جگنو کوئی پاس ہی سے بولا

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے

کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری

میں راہ میں روشنی کروں گا

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل

چمکا کے مجھے دیا بنایا

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal