جہاں ميں دانش و بينش کي ہے کس درجہ ارزاني
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
جہاں ميں دانش و بينش کي ہے کس درجہ ارزاني
کوئي شے چھپ نہيں سکتي کہ يہ عالم ہے نوراني
کوئي ديکھے تو ہے باريک فطرت کا حجاب اتنا
نماياں ہيں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہاني
يہ دنيا دعوت ديدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گيا ہے ذوق عرياني
يہي فرزند آدم ہے کہ جس کے اشک خونيں سے
کيا ہے حضرت يزداں نے درياؤں کو طوفاني
فلک کو کيا خبر يہ خاکداں کس کا نشيمن ہے
غرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کي نگہباني
اگر مقصود کل ميں ہوں تو مجھ سے ماورا کيا ہے
مرے ہنگامہ ہائے نو بہ نو کي انتہا کيا ہے؟
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔