Prof. Syed Mujahid Sajjad

قدرت کا عجيب يہ ستم ہے!

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

قدرت کا عجيب يہ ستم ہے!

انسان کو راز جو بنايا

راز اس کي نگاہ سے چھپايا

بے تاب ہے ذوق آگہي کا

کھلتا نہيں بھيد زندگي کا

حيرت آغاز و انتہا ہے

آئينے کے گھر ميں اور کيا ہے

ہے گرم خرام موج دريا

دريا سوئے سجر جادہ پيما

بادل کو ہوا اڑا رہي ہے

شانوں پہ اٹھائے لا رہي ہے

تارے مست شراب تقدير

زندان فلک ميں پا بہ زنجير

خورشيد ، وہ عابد سحر خيز

لانے والا پيام بر خيز

مغرب کي پہاڑيوں ميں چھپ کر

پيتا ہے مے شفق کا ساغر

لذت گير وجود ہر شے

سر مست مے نمود ہر شے

کوئي نہيں غم گسار انساں

کيا تلخ ہے روزگار انساں!

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal