خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوۂ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بے کراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پر نيان و حریر
نہنگ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد
نہنگ مردہ کو موج سراب بھی زنجیر
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔