Prof. Syed Mujahid Sajjad

رولے ابدل کھول کر تو اے دل خونابہ بار

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

رولے ابدل کھول کر تو اے دل خونابہ بار

یہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کر مزار

یہ محل خیمہ تھا ان صحرا نشینوں کا کبھی

بحر بازی گاہ تھا جن کے مکینوں کا کبھی

زلزلے جن سے شہنشاہ ہوں گے درباروں میں تھے

شعلۂ جاں سوز پنہان جن کی تلواروں میں تھے

آفرینش جن کی دنیائے کہن کی تھی اجل

جن کی ہیبت سے لرز جاتے تھے باطل کے محل

زندگی دنیا کو جن کی شورش قم سے ملی

مخلصی انساں کو زنجیر توہم سے ملی

جس کے آوازے سے لذت گیر اب تک گوش ہے

وہ جرس بھی اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے

آہ اے سسلی سمندر کی ہے تجھ سے آبرو

رہنما کی طرح اس صحرا کے پا��ی میں ہے تو

زیب تیرے خال سے رخسار دریا کو رہے

تیری شمعوں سے تسلی بحر چیا کور ہے

ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام

موج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام

تو کبھی اس قوم تہذیب کو گہوارہ تھا

حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا

نالہ کش شیرازہ کا بلبل ہوا بغداد پر

داغ رویا خون آنسو جہاں آباد پر

آسمان نے دولت غرناطہ جب برباد کی

ابن بدروں ے دل ناشاد فریاد کی

مرثیہ تیری تباہی کا میری قسمت میں تھا

یہ تڑپنا اور تڑپانا میری قسمت میں تھا

ہے تیرے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں

تیرے ساحل کی خموشی میں ہے انداز بیاں

درد اپنا مجھ سے کہہ میں بھی سراپا درد ہوں

جس کی تو منزل تھا میں اس کارواں کی گرد ہوں

رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے

قصہ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے

میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا

خود یہاں روتاہوں اوروں کو وہاں رلواؤں گا

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal