Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہر نفس اقبال تيرا آہ ميں مستور ہے

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

ہر نفس اقبال تيرا آہ ميں مستور ہے

سينہ سوزاں ترا فرياد سے معمور ہے

نغمہ اميد تيري بربط دل ميں نہيں

ہم سمجھتے ہيں يہ ليلي تيرے محمل ميں نہيں

گوش آواز سرود رفتہ کا جويا ترا

اور دل ہنگامہء حاضر سے بے پروا ترا

قصہ گل ہم نوايان چمن سنتے نہيں

اہل محفل تيرا پيغام کہن سنتے نہيں

اے درائے کاروان خفتہ پا! خاموش رہ

ہے بہت ياس آفريں تيري صدا خاموش رہ

زندہ پھر وہ محفل ديرينہ ہو سکتي نہيں

شمع سے روشن شب دوشينہ ہوسکتي نہيں

ہم نشيں! مسلم ہوں ميں، توحيد کا حامل ہوں ميں

اس صداقت پر ازل سے شاہد عادل ہوں ميں

نبض موجودات ميں پيدا حرارت اس سے ہے

اور مسلم کے تخيل ميں جسارت اس سے ہے

حق نے عالم اس صداقت کے ليے پيدا کيا

اور مجھے اس کي حفاظت کے ليے پيدا کيا

دہر ميں غارت گر باطل پرستي ميں ہوا

حق تو يہ ہے حافظ ناموس ہستي ميں ہوا

ميري ہستي پيرہن عرياني عالم کي ہے

ميرے مٹ جانے سے رسوائي بني آدم کي ہے

قسمت عالم کا مسلم کوکب تابندہ ہے

جس کي تاباني سے افسون سحر شرمندہ ہے

آشکارا ہيں مري آنکھوں پہ اسرار حيات

کہہ نہيں سکتے مجھے نوميد پيکار حيات

کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضي منظر مجھے

ہے بھروسا اپني ملت کے مقدر پر مجھے

ياس کے عنصر سے ہے آزاد ميرا روزگار

فتح کامل کي خبر دتيا ہے جوش کارزار

ہاں يہ سچ ہے چشم بر عہد کہن رہتا ہوں ميں

اہل محفل سے پراني داستاں کہتا ہوں ميں

ياد عہد رفتہ ميري خاک کو اکسير ہے

ميرا ماضي ميرے استقبال کي تفسير ہے

سامنے رکھتا ہوں اس دور نشاط افزا کو ميں

ديکھتا ہوں دوش کے آئينے ميں فردا کو ميں

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal