مرشد کي يہ تعليم تھي اے مسلم شوريدہ سر
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
مرشد کي يہ تعليم تھي اے مسلم شوريدہ سر
لازم ہے رہرو کے ليے دنيا ميں سامان سفر
بدلي زمانے کي ہوا ، ايسا تغير آگيا
تھے جو گراں قميت کبھي، اب ہيں متاع کس مخر
وہ شعلہ روشن ترا ظلمت گريزاں جس سے تھي
گھٹ کر ہوا مثل شرر تارے سے بھي کم نور تر
شيدائي غائب نہ رہ، ديوانہء موجود ہو
غالب ہے اب اقوام پر معبود حاضر کا اثر
ممکن نہيں اس باغ ميں کوشش ہو بار آور تري
فرسودہ ہے پھندا ترا، زيرک ہے مرغ تيز پر
اس دور ميں تعليم ہے امراض ملت کي دوا
ہے خون فاسد کے ليے تعليم مثل نيشتر
رہبر کے ايما سے ہوا تعليم کا سودا مجھے
واجب ہے صحرا گرد پر تعميل فرمان خضر
ليکن نگاہ نکتہ بيں ديکھے زبوں بختي مري
''رفتم کہ خار از پا کشم ،محمل نہاں شد از نظر
يک لحظ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دور شد''
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔