زندگاني ہے مري مثل رباب خاموش
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
زندگاني ہے مري مثل رباب خاموش
جس کي ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبريز آغوش
بربط کون و مکاں جس کي خموشي پہ نثار
جس کے ہر تار ميں ہيں سينکڑوں نغموں کے مزار
محشرستان نوا کا ہے اميں جس کا سکوت
اور منت کش ہنگامہ نہيں جس کا سکوت
آہ! اميد محبت کي بر آئي نہ کبھي
چوٹ مضراب کي اس ساز نے کھائي نہ کبھي
مگر آتي ہے نسيم چمن طور کبھي
سمت گردوں سے ہوائے نفس حور کبھي
چھيڑ آہستہ سے ديتي ہے مرا تار حيات
جس سے ہوتي ہے رہا روح گرفتار حيات
نغمہ ياس کي دھيمي سي صدا اٹھتي ہے
اشک کے قافلے کو بانگ درا اٹھتي ہے
جس طرح رفعت شبنم ہے مذاق رم سے
ميري فطرت کي بلندي ہے نوائے غم سے
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔