ہو رہي ہے زير دامان افق سے آشکار
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
ہو رہي ہے زير دامان افق سے آشکار
صبح يعني دختر دوشيزہ ليل و نہار
پا چکا فرصت درود فصل انجم سے سپہر
کشت خاور ميں ہوا ہے آفتاب آئينہ کار
آسماں نے آمد خورشيد کي پا کر خبر
محمل پرواز شب باندھا سر دوش غبار
شعلہء خورشيد گويا حاصل اس کھيتي کا ہے
بوئے تھے دہقان گردوں نے جو تاروں کے شرار
ہے رواں نجم سحر ، جيسے عبادت خانے سے
سب سے پيچھے جائے کوئي عابد شب زندہ دار
کيا سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ کوئي
کھينچتا ہو ميان کي ظلمت سے تيغ آب دار
مطلع خورشيد ميں مضمر ہے يوں مضمون صبح
جيسے خلوت گاہ مينا ميں شراب خوش گوار
ہے تہ دامان باد اختلاط انگيز صبح
شورش ناقوس ، آواز اذاں سے ہمکنار
جاگے کوئل کي اذاں سے طائران نغمہ سنج
ہے ترنم ريز قانون سحر کا تار تار
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔