ڈالي گئي جو فصل خزاں ميں شجر سے ٹوٹ
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
ڈالي گئي جو فصل خزاں ميں شجر سے ٹوٹ
ممکن نہيں ہري ہو سحاب بہار سے
ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے
کچھ واسطہ نہيں ہے اسے برگ و بار سے
ہے تيرے گلستاں ميں بھي فصل خزاں کا دور
خالي ہے جيب گل زر کامل عيار سے
جو نغمہ زن تھے خلوت اوراق ميں طيور
رخصت ہوئے ترے شجر سايہ دار سے
شاخ بريدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو
ناآشنا ہے قاعدئہ روزگار سے
ملت کے ساتھ رابطہء استوار رکھ
پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ!
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔