Prof. Syed Mujahid Sajjad

وہ مست ناز جو گلشن ميں جا نکلتي ہے

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

وہ مست ناز جو گلشن ميں جا نکلتي ہے

کلي کلي کي زباں سے دعا نکلتي ہے

''الہي! پھولوں ميں وہ انتخاب مجھ کو کرے

کلي سے رشک گل آفتاب مجھ کو کرے''

تجھے وہ شاخ سے توڑيں! زہے نصيب ترے

تڑپتے رہ گئے گلزار ميں رقيب ترے

اٹھا کے صدمہ فرقت وصال تک پہنچا

تري حيات کا جوہر کمال تک پہنچا

مرا کنول کہ تصدق ہيں جس پہ اہل نظر

مرے شباب کے گلشن کو ناز ہے جس پر

کبھي يہ پھول ہم آغوش مدعا نہ ہوا

کسي کے دامن رنگيں سے آشنا نہ ہوا

شگفتہ کر نہ سکے گي کبھي بہار اسے

فسردہ رکھتا ہے گلچيں کا انتظار اسے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal