سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
بھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نے
لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میں
پیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے
رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو
دکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نے
ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا
کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے
کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا
چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے
کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا
کیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نے
کبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوں
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نے
سنایا ہند میں آ کر سرود ربانی
پسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نے
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی
بسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نے
بنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالم
خلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نے
لہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کو
جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے
سمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی
اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے
ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں
سکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نے
کشش کا راز ہویدا کیا زمانے پر
لگا کے آئینہ عقل دوربیں میں نے
کیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کو
بنا د�� غیرت جنت یہ سرزمیں میں نے
مگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کی
کیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نے
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر
تو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔