جوئے سرود آفريں آتي ہے کوہسار سے
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
جوئے سرود آفريں آتي ہے کوہسار سے
پي کے شراب لالہ گوں مے کدئہ بہار سے
مست مے خرام کا سن تو ذرا پيام تو
زندہ وہي ہے کام کچھ جس کو نہيں قرار سے
پھرتي ہے واديوں ميں کيا دخترخوش خرام ابر
کرتي ہے عشق بازياں سبزئہ مرغزار سے
جام شراب کوہ کے خم کدے سے اڑاتي ہے
پست و بلند کرکے طے کھيتوں کو جا پلاتي ہے
شاعر دل نواز بھي بات اگر کہے کھري
ہوتي ہے اس کے فيض سے مزرع زندگي ہري
شان خليل ہوتي ہے اس کے کلام سے عياں
کرتي ہے اس کي قوم جب اپنا شعار آزري
اہل زميں کو نسخہء زندگي دوام ہے
خون جگر سے تربيت پاتي ہے جو سخنوري
گلشن دہر ميں اگر جوئے مے سخن نہ ہو
پھول نہ ہو، کلي نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔