اک رات يہ کہنے لگے شبنم سے ستارے
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
اک رات يہ کہنے لگے شبنم سے ستارے
ہر صبح نئے تجھ کو ميسر ہيں نظارے
کيا جانيے ، تو کتنے جہاں ديکھ چکي ہے
جو بن کے مٹے، ان کے نشاں ديکھ چکي ہے
زہرہ نے سني ہے يہ خبر ايک ملک سے
انسانوں کي بستي ہے بہت دور فلک سے
کہہ ہم سے بھي اس کشور دلکش کا فسانہ
گاتا ہے قمر جس کي محبت کا ترانہ
اے تارو نہ پوچھو چمنستان جہاں کي
گلشن نہيں ، اک بستي ہے وہ آہ و فغاں کي
آتي ہے صبا واں سے پلٹ جانے کي خاطر
بے چاري کلي کھلتي ہے مرجھانے کي خاطر
کيا تم سے کہوں کيا چمن افروز کلي ہے
ننھا سا کوئي شعلہ بے سوز کلي ہے
گل نالہ بلبل کي صدا سن نہيں سکتا
دامن سے مرے موتيوں کو چن نہيں سکتا
ہيں مرغ نواريز گرفتار، غضب ہے
اگتے ہيں تہ سايہ گل خار، غضب ہے
رہتي ہے سدا نرگس بيمار کي تر آنکھ
دل طالب نظارہ ہے ، محروم نظر آنکھ
دل سوختہ گرمي فرياد ہے شمشاد
زنداني ہے اور نام کو آزاد ہے شمشاد
تارے شرر آہ ہيں انساں کي زباں ميں
ميں گريہ گردوں ہوں گلستاں کي زباں ميں
ناداني ہے يہ گرد زميں طوف ��مر کا
سمجھا ہے کہ درماں ہے وہاں داغ جگر کا
بنياد ہے کاشانہ عالم کي ہوا پر
فرياد کي تصوير ہے قرطاس فضا پر
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔