تو رہ نورد شوق ہے ، منزل نہ کر قبول
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
تو رہ نورد شوق ہے ، منزل نہ کر قبول
ليلي بھي ہم نشيں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دريائے تند و تيز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھويا نہ جا صنم کدہ کائنات ميں
محفل گداز ! گرمي محفل نہ کر قبول
صبح ازل يہ مجھ سے کہا جبرئيل نے
جو عقل کا غلام ہو ، وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئي پسند ہے ، حق لا شريک ہے
شرکت ميانہ حق و باطل نہ کر قبول!
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔