ہم بغل دريا سے ہے اے قطرہ بے تاب تو
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
ہم بغل دريا سے ہے اے قطرہ بے تاب تو
پہلے گوہر تھا ، بنا اب گوہر ناياب تو
آہ کھولا کس ادا سے تو نے راز رنگ و بو
ميں ابھي تک ہوں اسير امتياز رنگ و بو
مٹ کے غوغا زندگي کا شورش محشر بنا
يہ شرارہ بجھ کے آتش خانہ آزر بنا
نفي ہستي اک کرشمہ ہے دل آگاہ کا
'لا' کے دريا ميں نہاں موتي ہے 'الااللہ' کا
چشم نابينا سے مخفي معني انجام ہے
تھم گئي جس دم تڑپ ، سيماب سيم خام ہے
توڑ ديتا ہے بت ہستي کو ابراہيم عشق
ہوش کا دارو ہے گويا مستي تسنيم عشق
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔