Prof. Syed Mujahid Sajjad

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں

سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کا

وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں

گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا

اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو

اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے

اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری

صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں

معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal