Prof. Syed Mujahid Sajjad

اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور

ساقي نے بنا کي روش لطف و ستم اور

مسلم نے بھي تعمير کيا اپنا حرم اور

تہذيب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

ان تازہ خداؤں ميں بڑا سب سے وطن ہے

جو پيرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے

يہ بت کہ تراشيدہء تہذيب نوي ہے

غارت گر کاشانہء دين نبوي ہے

بازو ترا توحيد کي قوت سے قوي ہے

اسلام ترا ديس ہے ، تو مصطفوي ہے

نظارہ ديرينہ زمانے کو دکھا دے

اے مصطفوي خاک ميں اس بت کو ملا دے !

ہو قيد مقامي تو نتيجہ ہے تباہي

رہ بحر ميں آزاد وطن صورت ماہي

ہے ترک وطن سنت محبوب الہي

دے تو بھي نبوت کي صداقت پہ گواہي

گفتار سياست ميں وطن اور ہي کچھ ہے

ارشاد نبوت ميں وطن اور ہي کچھ ہے

اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسي سے

تسخير ہے مقصود تجارت تو اسي سے

خالي ہے صداقت سے سياست تو اسي سے

کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسي سے

اقوام ميں مخلوق خدا بٹتي ہے اس سے

قوميت اسلام کے جڑ کٹتي ہے اس سے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal