Prof. Syed Mujahid Sajjad

جستجو جس گل کي تڑپاتي تھي اے بلبل مجھے

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

جستجو جس گل کي تڑپاتي تھي اے بلبل مجھے

خوبي قسمت سے آخر مل گيا وہ گل مجھے

خود تڑپتا تھا ، چمن والوں کو تڑپاتا تھا ميں

تجھ کو جب رنگيں نوا پاتا تھا ، شرماتا تھا ميں

ميرے پہلو ميں دل مضطر نہ تھا ، سيماب تھا

ارتکاب جرم الفت کے ليے بے تاب تھا

نامرادي محفل گل ميں مري مشہور تھي

صبح ميري آئنہ دار شب ديجور تھي

از نفس در سينہء خوں گشتہ نشتر داشتم

زير خاموشي نہاں غوغائے محشر داشتم

اب تاثر کے جہاں ميں وہ پريشاني نہيں

اہل گلشن پر گراں ميري غزل خواني نہيں

عشق کي گرمي سے شعلے بن گئے چھالے مرے

کھليتے ہيں بجليوں کے ساتھ اب نالے مرے

غازئہ الفت سے يہ خاک سيہ آئينہ ہے

اور آئينے ميں عکس ہمدم ديرينہ ہے

قيد ميں آيا تو حاصل مجھ کو آزادي ہوئي

دل کے لٹ جانے سے ميرے گھر کي آبادي ہوئي

ضو سے اس خورشيد کي اختر مرا تابندہ ہے

چاندني جس کے غبار راہ سے شرمندہ ہے

يک نظر کر دي و آداب فنا آموختي

اے خنک روزے کہ خاشاک مرا واسوختي

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal