Prof. Syed Mujahid Sajjad

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت

الطاف حسین حالی

کلیاتِ حالی

Published 14 October 2026

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت

پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا

جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت

ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل

راس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت

سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں

دل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت

چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دل

راحت اس تکلیف میں پائی بہت

آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے

مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت

جاں نثاری پر وہ بول اٹھے مری

ہیں فدائی کم تماشائی بہت

ہم نے ہر ادنیٰ کو آلا کر دیا

خاکساری اپنی کام آئی بہت

کر دیا چپ واقعات دہر نے

تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت

گھٹ گئیں خود تلخیاں ایام کی

یا گئی کچھ بڑھ شکیبائی بہت

ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو

راست گوئی میں ہے رسوائی بہت

About Altaf Hussain Hali (الطاف حسین حالی)

الطاف حسین حالی (1837 – 1914) شاعر، ناقد اور سوانح نگار تھے اور غالب سے قریب رہے۔ ان کی مسدس اردو کی مشہور ترین نظموں میں سے ہے۔

Read all poetry by Altaf Hussain Hali

More Urdu poetry by Altaf Hussain Hali